Recitation
Next: 33_37
Arabic
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا
Urdu
کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا
English
It is not for a believing man or a believing woman, when Allah and His Messenger have decided a matter, that they should [thereafter] have any choice about their affair. And whoever disobeys Allah and His Messenger has certainly strayed into clear error
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان کو خود مختار پیدا کیا گیا ہے۔ اس خود مختاری کو اسے خدا کے حوالے کرنا ہے۔ یہی موجودہ دنیا میں انسان کااصل امتحان ہے۔ وہی شخص ہدایت پر ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔ اس کی ایک مثال دور اول میں زید اور زینب کے نکاح کا واقعہ ہے۔ زید ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ اس کے برعکس، زینب قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ کیونکہ وہ امیمہ بنت عبدالمطلب کی صاحب زادی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کا نکاح زینب سے کرنا چاہا تو زینب کے گھر والے اس کےلیے تیار نہیں ہوئے۔ خود زینب نے کہا کہ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ حَسَبًا (تفسیر الطبری، جلد20، صفحہ 272 )۔ مگر جب ان لوگوں کو قرآن کی مذکورہ آیت سنائی گئی تو وہ لوگ فوراً راضی ہوگئے۔ 4 ہجری میں ان کا نکاح کردیاگیا۔ یہی اسلام کا مزاج ہے اور یہی مزاج ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت میں ہونا چاہيے۔