Recitation

Next: 33_6


Arabic

ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا


Urdu

منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں نا دانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے


English

Call them by [the names of] their fathers; it is more just in the sight of Allah. But if you do not know their fathers - then they are [still] your brothers in religion and those entrusted to you. And there is no blame upon you for that in which you have erred but [only for] what your hearts intended. And ever is Allah Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔ آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔


Connections

  • Previous: 33_4
  • Next: 33_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes