Recitation

Next: 33_68


Arabic

وَقَالُواْ رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِيلَا۠


Urdu

اور کہیں گے “اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا


English

And they will say, “Our Lord, indeed we obeyed our masters and our dignitaries, and they led us astray from the [right] way


Tafsir — Bayan ul Quran

قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔


Connections

  • Previous: 33_66
  • Next: 33_68
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes