Recitation

Next: 33_73


Arabic

إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَيۡنَ أَن يَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومٗا جَهُولٗا


Urdu

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے


English

Indeed, we offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, and they declined to bear it and feared it; but man [undertook to] bear it. Indeed, he was unjust and ignorant


Tafsir — Bayan ul Quran

امانت سے مراد اختیا رہے۔ اختیار کو امانت اس ليے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کےلیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابع دار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پروہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کررہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اسی کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کرسکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کرلیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کررہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالتِ امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کےلیے وسیع امتحان گاہ۔ یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا وسزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور ومقہور ہیں۔ اس ليے ان کے واسطے جزا وسزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس ليے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ تو آدم نے پوچھا که امانت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر تم اچھا کروگے تو تم کو اس کا بدلہ ملے گا اور اگر تم برا کروگے تو تم کو سزا دی جائے گی (إِنْ أَحْسَنْتَ جُزِيتَ، وَإِنْ أَسَأْتَ عُوقِبْتَ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 338 ۔


Connections

  • Previous: 33_71
  • Next: 33_73
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes