Recitation
Next: 33_10
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا
Urdu
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے
English
O you who have believed, remember the favor of Allah upon you when armies came to [attack] you and We sent upon them a wind and armies [of angels] you did not see. And ever is Allah, of what you do, Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran
غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔