Recitation

Next: 34_11


Arabic

۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ


Urdu

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا


English

And We certainly gave David from Us bounty. [We said], “O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well].” And We made pliable for him iron


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک مومن جب خدا کی یاد سے سرشار ہو کر اس کی تسبیح کرتاہے تو اس وقت وہ ساری کائنات کا ہم نوا ہوتا ہے۔ زمین وآسمان کی تمام چیزیں تسبیح ِخداوندی میں اس کی شریک آواز ہوجاتی ہیں۔ تاہم کائنات کی یہ ہم نوائی خاموش زبان میں ہوتی ہے۔ مگر حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور چڑیاں محسوس طور پر آپ کے ساتھ تسبیح خوانی میں شریک ہوجاتیں۔ اسی طرح حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی صنعت سکھائی۔ انھوںنے لوہے کے پگھلانے اور ڈھالنے کے فن کو ترقی دی کہ وہ نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے لگے جن کو آدمی کپڑے کی طرح پہن سکے۔ اس وقت دنیا میں یہ فن موجود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طورپر فرشتوں کے ذریعہ یہ فن آپ کو سکھایا۔ مومن صنعت اور سائنس میں بڑی بڑی ترقیاں کرسکتا ہے۔ مگر اس کےلیے لازم ہے کہ وہ انساني ترقی کو صرف اصلاح کے دائرہ میں استعمال کرے۔ وہ جو کچھ کرے اس احساسات کے تحت کرے کہ آخر کار اس کو جواب دہی کےلیے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔


Connections

  • Previous: 34_9
  • Next: 34_11
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes