Recitation
Next: 34_19
Arabic
وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ ٱلۡقُرَى ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا قُرٗى ظَٰهِرَةٗ وَقَدَّرۡنَا فِيهَا ٱلسَّيۡرَۖ سِيرُواْ فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ
Urdu
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ
English
And We placed between them and the cities which We had blessed [many] visible cities. And We determined between them the [distances of] journey, [saying], “Travel between them by night or day in safety
Tafsir — Bayan ul Quran
برکت والی بستیوں سے مراد شام کا سر سبز وشاداب علاقہ ہے۔ اس سرسبز علاقہ میں یمن سے شام تک خوبصورت آبادیوں کی قطاریں چلی گئی تھیں۔ ان کے درمیان سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ یہ ماحول اپنی حقیقت کے اعتبار سے ربانی جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ گویا کہ خدا نے یہاں ایک خاموش سائن بورڈ لگادیاہو کہ — بے خوف وخطر چلو اور اپنے رب کا شکر کرو۔ مگر سبا کے غافل لوگ اس خدائی کتبہ کو نہ پڑھ سکے۔ انھوںنے اپنے رویہ سے ان خدائی نعمتوں کا استحقاق کھو دیا۔ چنانچہ وہ اس طرح مٹے کہ وہ ماضی کی داستان بن گئے۔ علاقہ کی تباہی کے بعد سبا کے مختلف قبائل اپنے وطن سے نکل کر دور دور کے علاقوں میں منتشر ہوگئے۔ یہ واقعات تاریخ کے معلوم واقعات ہیں۔ مگر ان کو جاننے والا حقیقۃ ً وہ ہے جو ان سے یہ سبق لے کہ اس کو خوش حالی ملے تو وہ ناز میں مبتلا نہ ہو۔ اس کو جو کچھ ملے اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر وہ خدا کا شکر گزار بن جائے۔