Recitation

Next: 35_26


Arabic

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلزُّبُرِ وَبِٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ


Urdu

اب اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں اُن کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب لے کر آئے تھے


English

And if they deny you - then already have those before them denied. Their messengers came to them with clear proofs and written ordinances and with the enlightening Scripture


Tafsir — Bayan ul Quran

یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔


Connections

  • Previous: 35_24
  • Next: 35_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes