Recitation
Next: 35_29
Arabic
وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مُخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ كَذَٰلِكَۗ إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ
Urdu
اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے
English
And among people and moving creatures and grazing livestock are various colors similarly. Only those fear Allah, from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allah is Exalted in Might and Forgiving
Tafsir — Bayan ul Quran
بادل سے ایک ہی پانی برستاہے مگر اس سے مختلف قسم کی چیزیں اگتی ہیں۔ اچھے درخت بھی اور جھاڑ جھنکاڑ بھی۔ اسی طرح ایک ہی مادہ ہے جو پہاڑوں کی صورت میں منجمد ہوتاہے مگر ان میں کچھ سرخ وسفید ہیں اور کچھ بالکل کالے۔ اسی طرح جاندار بھی سب ایک غذا کھاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی انسان کےلیے کار آمد ہے اور کوئی بے کار۔ اس سے معلوم ہوا کہ فیض خواہ عام ہو مگر اس سے فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی استعداد کے مطابق پہنچتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ دعوتِ حق کی صورت میں خدا کی جو رحمت بکھیری جاتی ہے وہ اگرچہ بذات خود ایک ہوتی ہے مگر مختلف انسان اپنے اندرونی مزاج کے مطابق اس سے مختلف قسم کا تاثر قبول کرتے ہیں۔ کوئی شخص حق کی دعوت میں اپنی روح کی غذا پالیتاہے۔ وہ فوراً اس کو قبول کرکے اپنے آپ کو اس سے وابستہ کردیتاہے اور کسی کی نفسیات اس کےلیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ اس سے بدکتاہے، حتی کہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ حق کی دعوت جس شخص کےلیے اس کے دل کی آواز ثابت ہو وہی علم والا انسان ہے۔ اس کے اندر فطرت کی خدائی روشنی زندہ تھی ۔ اس ليے اس نے حق کے ظاہر ہوتے ہی اس کو پہچان لیا۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جاہل ہیں جو اپنی فطرت کی روشنی پر پردہ ڈالے ہوئے ہوں اور جب حق ان کے سامنے بے نقاب ہو تو اس کو پہچاننے میں ناکام رہیں۔