Recitation
Next: 35_33
Arabic
ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ
Urdu
پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے
English
Then we caused to inherit the Book those We have chosen of Our servants; and among them is he who wrongs himself, and among them is he who is moderate, and among them is he who is foremost in good deeds by permission of Allah. That [inheritance] is what is the great bounty
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔ قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔