Recitation
Next: 35_5
Arabic
وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
Urdu
اب اگر (اے نبیؐ) یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں)، تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، اور سارے معاملات آخرکار اللہ ہی کی طرف رجوع ہونے والے ہیں
English
And if they deny you, [O Muhammad] - already were messengers denied before you. And to Allah are returned [all] matters
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان اپنی زندگی کےلیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ مثلاً روشنی، پانی، ہوا، خوراک، معدنیات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اس کو وجود میں لانے کےلیے کائناتی طاقتوں کا متحدہ عمل درکار ہے۔ ایک خدا کے سوا کون ہے جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ مشرک اور ملحد لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان اسباب حیات کی فراہمی ایک خدا کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے۔ پھر جب ان تمام چیزوں کا خالق اور منتظم ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسروں کو معبود بنانا کیوں کر درست ہوسکتاہے۔ تاریخ کا یہ عجیب تجربہ ہے کہ جو لوگ خدا کے سوا دوسروں کو بڑائی کا مقام دئے ہوئے ہوں وہ ان کو چھوڑ کر خدا کو اپنا بڑا بنانے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ ا س کی دعوت پیغمبرانہ سطح پر کیوں نہ دی جارہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مانے ہوئے کو مانتے ہیں۔ جب کہ پیغمبر پر یقین کرنے کا مطلب اس وقت یہ ہوتا ہے کہ آدمی نہ مانے ہوئے کو مانے۔ اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خود اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرے، وہ اپنی ذاتی بصیرت سے سچائی کو دریافت کرے۔ اور بلا شبہ یہ کسی انسان کےلیے ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔