Recitation
Next: 36_19
Arabic
قَالُوٓاْ إِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهُواْ لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu
بستی والے کہنے لگے “ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے
English
They said, “Indeed, we consider you a bad omen. If you do not desist, we will surely stone you, and there will surely touch you, from us, a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
بستی سے مراد غالباً مصر کی بستی ہے۔ یہاں بیک وقت دو پیغمبر (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ) لوگوں کو خبر دار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ مگر انھوں نے انکار کیا۔ پھر ان کی اپنی قوم سے تیسرا شخص اٹھااور اس نے دونوں رسولوں کی تائید کی۔ اس تیسرے شخص سے مراد غالباً وہی رجل مومن ہے جس کا ذکر قرآن میں سورہ مومن میں تفصیل سے آیا ہے۔ ہر زمانہ میں آدمی کےلیے سب سے زیادہ تلخ چیز یہ رہی ہے کہ اس کو ایسی نصیحت کی جائے جو اس کے مزاج کے خلاف ہو۔ ایسی بات سن کر آدمی فوراً بگڑ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور نہیں کرپاتا۔ وہ اس کو دلیل کے اعتبار سے نہیں جانچتا بلکہ ضد اور نفرت کے تحت اس کے خلاف غیر متعلق باتیں کہتا رہتا ہے۔ کسی بات کو دلیل سے جانچنا حد کے اندر رہنا ہے اور بے دلیل مخالفت کرنا حد سے باہر نکل جانا۔