Recitation
Next: 37_146
Arabic
۞فَنَبَذۡنَٰهُ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٞ
Urdu
آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا
English
But We threw him onto the open shore while he was ill
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔