Recitation
Next: 37_37
Arabic
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓاْ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٖ مَّجۡنُونِۭ
Urdu
اور کہتے تھے “کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟
English
And were saying, “Are we to leave our gods for a mad poet
Tafsir — Bayan ul Quran
’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔ پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔