Recitation
Next: 38_42
Arabic
وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ
Urdu
اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے
English
And remember Our servant Job, when he called to his Lord, “Indeed, Satan has touched me with hardship and torment
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے۔ ان کا زمانہ غالباً نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کوکافی مال ودولت حاصل تھی۔ مگر مال ودولت میں گم ہونے کے بجائے وہ خدا کی عبادت کرتے اور لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے۔کچھ غلط قسم کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ایوب کو جب اتنا زیادہ مال ودولت حاصل ہے تو وہ دین دارنہ بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت قائم کرنے کےلیے حضرت ایوب کو مفلس بنادیا۔ مگر وہ بدستور اللہ کے عبادت گزار بنے رہے۔ انھوںنے کہا کہ ’’خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو‘‘(ايوب 1:21)۔ شریر لوگ اب بھی چپ نہ ہو ئے۔ انھوں نے کہا کہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ وہ جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں اور پھر بھی صبر وشکر پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ نمونہ بھی دکھایا۔ حضرت ایوب کو سخت جِلدی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے تمام جسم پر پھوڑے ہوگئے۔ مگر وہ بدستور صبر وشکر کی تصویر بنے رہے۔ جب لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کےلیے ایک چشمہ جاری کیا جس میں نہانے سے ان کا جسم بالکل تندرست ہوگیا۔ اور مال واولاد بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرمائے۔ حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں کسی بات پر قسم کھالی تھی کہ اچھے ہوگئے تو اپنی بیوی کو سو لکڑیاں ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کو پورا کرنے کی یہ تدبیر انھیں بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں ایک سو سینکیں ہو اور اس سے ہلکے طورپر ایک بار اپنی بیوی کو مارو — اس سے معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں حیلہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کو باطل نہ کرتاہو۔خدا جب اپنے دین کےلیے کسی کو استعمال کرے اور وہ شخص کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردے تو خدا اس کو دوبارہ اس سے زیادہ دے دیتاہے جتنا اس سے مذکورہ عمل کے دوران چھنا تھا۔