Recitation
Next: 38_52
Arabic
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدۡعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ وَشَرَابٖ
Urdu
ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے
English
Reclining within them, they will call therein for abundant fruit and drink
Tafsir — Bayan ul Quran
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔ قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔