Recitation
Next: 39_16
Arabic
فَٱعۡبُدُواْ مَا شِئۡتُم مِّن دُونِهِۦۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ
Urdu
تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے
English
So worship what you will besides Him.” Say, “Indeed, the losers are the ones who will lose themselves and their families on the Day of Resurrection. Unquestionably, that is the manifest loss
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبر کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ صرف ایک خدا کے پرستار بنیں۔ اس کے سوا دوسری تمام چیزوں کی پرستاری چھوڑدیں۔ پیغمبر کےلیے یہ معروف معنوں میں صرف قیادتی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس ليے وہ سب سے پہلے خود اس پر قائم ہوتاہے۔ پیغمبر کو یقین ہوتا ہے کہ آدمی کے نفع اور نقصان کا اصل فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اس ليے وہ خود اپنی زندگی کو آخرت کی راہ میں لگاتا ہے اور دوسروں کو اس کی طرف لگنے کی دعوت دیتا ہے۔ پیغمبر کے کام کی یہ نوعیت داعی کے کام کی نوعیت کو بتا رہی ہے۔ حق کا داعی وہی شخص ہے جس کےلیے حق اس کا ذاتی مسئلہ بن جائے۔ جس کی دعوت اس کی اندرونی حالت کا ایک بے تابانہ اظہار ہو، نہ کہ لاؤڈاسپیکر کی طرح صرف ایک خارجی پکار۔