Recitation
Next: 39_4
Arabic
أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ
Urdu
خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو
English
Unquestionably, for Allah is the pure religion. And those who take protectors besides Him [say], “We only worship them that they may bring us nearer to Allah in position.” Indeed, Allah will judge between them concerning that over which they differ. Indeed, Allah does not guide he who is a liar and [confirmed] disbeliever
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن حقیقتِ واقعہ کا خدائی بیان ہے۔ اس کا حکیمانہ اسلوب اور ا س کے غیر معمولی طورپر پختہ مضامین اس بات کا داخلی ثبوت ہیں کہ یہ واقعۃً خدا ہی کی طرف سے ہے۔ کوئی انسان اس قسم کا غیر معمولی کلام پیش کرنے پر قادر نہیں۔ دین کو اللہ کےلیے خالص کرنے کا مطلب ہے عبادت کو اللہ کےلیے خالص کرنا۔ یعنی یہ کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اپنی عبادت کو اسی کےلیے خالص کرتے ہوئے (ای فاعبد اللہ وحدہ مخلصاً لہ فی عبادتک)، صفوۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 64 ۔ ہر انسان کے اندر پر اسرار طور پر عبادت کا جذبہ موجود ہے۔ یعنی کسی کو بڑا تصور کرکے اس کےلیے استعجاب (Awe)کا احساس پیدا ہونا جس ہستی کے بارے میں آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے اس کو وہ سب سے زیادہ مقدس سمجھتا ہے۔ اس کے آگے اس کی پوری ہستی جھک جاتی ہے۔ اس کی جناب میں وہ غیر معمولی قسم کے احترام وآداب کا اظہار کرتاہے۔ اس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتاہے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی یاد سے اس کی روح کو لذت ملتی ہے۔ وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتاہے۔ اسی کانام عبادت (یا پرستش) ہے۔ اور یہ عبادت صرف ایک خدا کا حق ہے۔ مگر انسان ایسا کرتاہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے عبادت میں غیر خدا کو شریک کرتاہے۔ وہ غیر خدا کےلیے عبادتی افعال انجام دیتاہے۔ یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدائی ناقابل تقسیم ہے اسی طرح عبادت کی بھی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔