Recitation
Next: 39_70
Arabic
وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ وَجِاْيٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
Urdu
زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا
English
And the earth will shine with the light of its Lord, and the record [of deeds] will be placed, and the prophets and the witnesses will be brought, and it will be judged between them in truth, and they will not be wronged
Tafsir — Bayan ul Quran
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔ جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔