Recitation

Next: 39_8


Arabic

إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے


English

If you disbelieve - indeed, Allah is Free from need of you. And He does not approve for His servants disbelief. And if you are grateful, He approves it for you; and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you about what you used to do. Indeed, He is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا کو ماننااور اس کا شکر گزار بننا خود انسانی عقل کا تقاضا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف ہے اور حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف بلا شبہ سب سے بڑا عقلی تقاضا ہے۔ آخرت عدلِ کامل کا ظہور ہے اور یہ ناممکن ہے کہ عدل کامل کی دنیا میں وہ ناقص صورت حال جاری رہے جو موجودہ دنیا میں نظر آتی ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی عین وہی ثابت ہو جو کہ فی الواقع وہ ہے، اور عین وہی پائے جس کا وہ حقیقۃً مستحق تھا۔ موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دنیا کی اس کمی کو دور کرے، وہ ناقص دنیا کو آخری حد تک کامل دنیا بنادے۔


Connections

  • Previous: 39_6
  • Next: 39_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes