Recitation
Next: 4_15
Arabic
وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ
Urdu
اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے
English
And whoever disobeys Allah and His Messenger and transgresses His limits - He will put him into the Fire to abide eternally therein, and he will have a humiliating punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔