Recitation

Next: 4_78


Arabic

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ كَخَشۡيَةِ ٱللَّهِ أَوۡ أَشَدَّ خَشۡيَةٗۚ وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا ٱلۡقِتَالَ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖۗ قُلۡ مَتَٰعُ ٱلدُّنۡيَا قَلِيلٞ وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِيلًا


Urdu

تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا


English

Have you not seen those who were told, “Restrain your hands [from fighting] and establish prayer and give zakah”? But then when fighting was ordained for them, at once a party of them feared men as they fear Allah or with [even] greater fear. They said, “Our Lord, why have You decreed upon us fighting? If only You had postponed [it for] us for a short time.” Say, The enjoyment of this world is little, and the Hereafter is better for he who fears Allah. And injustice will not be done to you, [even] as much as a thread [inside a date seed]


Tafsir — Bayan ul Quran

ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔ قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔


Connections

  • Previous: 4_76
  • Next: 4_78
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes