Recitation
Next: 40_17
Arabic
يَوۡمَ هُم بَٰرِزُونَۖ لَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٞۚ لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَۖ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ
Urdu
وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھپی ہوئی نہ ہو گی (اُس روز پکار کر پوچھا جائے گا) آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکار اٹھے گا) اللہ واحد قہار کی
English
The Day they come forth nothing concerning them will be concealed from Allah. To whom belongs [all] sovereignty this Day? To Allah, the One, the Prevailing
Tafsir — Bayan ul Quran
کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو تمثیل کی زبان میں حقیقت کا درس دے رہی ہيں۔ انھیں میں سے ایک نشانی بارش کا نظام ہے۔ یہ مادّی واقعہ وحی کے معنوی معاملہ کو ممثل کررہا ہے۔ جس طرح بارش زرخیز زمین کےلیے مفید ہے اور بنجر زمین کےلیے غیر مفید، اسی طرح وحی بھی خدا کی معنوی بارش ہے۔ جن لوگوں نے اپنے سینے کھلے رکھے ہوں ان کے اندر یہ بارش داخل ہو کر ان کے وجود کو سرسبز وشاداب کردیتی ہے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے دل غیر خدائی بڑائیوں سے بھرے ہوئے ہوں وہ گویا بنجر زمین ہیں۔ وہ وحی کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔ اللہ اپنے بند وں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ جس بندہ کو اہل پاتا ہے اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چن لیتاہے۔ اس پیغام کا خاص نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آنے والے دن سے آگاہ کیا جائے جب کہ وہ بادشاہ کائنات کے سامنے کھڑے کيے جائیںگے جس سے کسی کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ اور نہ کوئی ہے جو اس کے فیصلہ پر اثر اندازہوسکے۔