Recitation

Next: 40_30


Arabic

يَٰقَوۡمِ لَكُمُ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ ظَٰهِرِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأۡسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَاۚ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَآ أُرِيكُمۡ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهۡدِيكُمۡ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ


Urdu

اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آ گیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کر سکے گا” فرعون نے کہا “میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے


English

O my people, sovereignty is yours today, [your being] dominant in the land. But who would protect us from the punishment of Allah if it came to us?” Pharaoh said, “I do not show you except what I see, and I do not guide you except to the way of right conduct


Tafsir — Bayan ul Quran

یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔ اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔


Connections

  • Previous: 40_28
  • Next: 40_30
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes