Recitation

Next: 40_43


Arabic

تَدۡعُونَنِي لِأَكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَأُشۡرِكَ بِهِۦ مَا لَيۡسَ لِي بِهِۦ عِلۡمٞ وَأَنَا۠ أَدۡعُوكُمۡ إِلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡغَفَّـٰرِ


Urdu

تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھیراؤں جنہیں میں نہیں جانتا، حالانکہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں


English

You invite me to disbelieve in Allah and associate with Him that of which I have no knowledge, and I invite you to the Exalted in Might, the Perpetual Forgiver


Tafsir — Bayan ul Quran

دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔ ’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145


Connections

  • Previous: 40_41
  • Next: 40_43
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes