Recitation
Next: 40_45
Arabic
فَسَتَذۡكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمۡۚ وَأُفَوِّضُ أَمۡرِيٓ إِلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
Urdu
آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے
English
And you will remember what I [now] say to you, and I entrust my affair to Allah. Indeed, Allah is Seeing of [His] servants
Tafsir — Bayan ul Quran
دربارِ فرعون کے مومن کی یہ تقریر نہایت واضح ہے۔ نیز وہ ایک نمونہ کی تقریر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ حق کے داعی کا اندازِ خطاب کیا ہونا چاہیے اور یہ کہ دعوت حق کا اصل نکتہ کیا ہے۔ ’’میں تم کو خداوند عالم کی طرف بلاتا ہوں۔ اور تم جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو اس کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘— یہ فقرہ رجل مومن کی پوری تقریر کا خلاصہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فرعون کے دربار میں جو چیز زیر بحث تھی وہ کیا تھی۔ وہ یہ تھی کہ خدا کو پکارا جائے یا انسان کے بنائے ہوئے بتوں کو پکارا جائے۔ رجل مومن نے کہا کہ خدا تو ایک زندہ اور غالب حقیقت ہے، اس کو پکارنا ایک حقیقی معبود کو پکارنا ہے۔ مگر تمھارے اصنام صرف تمھارے وہم کی ایجاد ہیں۔ وہ نہ دنیا میں تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے اور نہ آخرت میں۔ جب ان کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں تو ان سے کوئی حقیقی فائدہ کیسے مل سکتا ہے (الْوَثَنَ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ)تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 145