Recitation
Next: 40_56
Arabic
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ
Urdu
پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ بر حق ہے، اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو
English
So be patient, [O Muhammad]. Indeed, the promise of Allah is truth. And ask forgiveness for your sin and exalt [Allah] with praise of your Lord in the evening and the morning
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔ اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔ خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔