Recitation
Next: 40_61
Arabic
وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
Urdu
تمہارا رب کہتا ہے “مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے
English
And your Lord says, “Call upon Me; I will respond to you.” Indeed, those who disdain My worship will enter Hell [rendered] contemptible
Tafsir — Bayan ul Quran
زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔ مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔ اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔