Recitation
Next: 40_8
Arabic
ٱلَّذِينَ يَحۡمِلُونَ ٱلۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْۖ رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٖ رَّحۡمَةٗ وَعِلۡمٗا فَٱغۡفِرۡ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَٱتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
Urdu
عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: “اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے
English
Those [angels] who carry the Throne and those around it exalt [Allah] with praise of their Lord and believe in Him and ask forgiveness for those who have believed, [saying], “Our Lord, You have encompassed all things in mercy and knowledge, so forgive those who have repented and followed Your way and protect them from the punishment of Hellfire
Tafsir — Bayan ul Quran
جو اللہ کے بندے بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ان کو ہمیشہ ستایا جاتا ہے۔ ان کو ماحول میں حقیر بنادیا جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ ظاہر پرست انسانوں کے درمیان ان کا یہ حال ہوتا ہے، عین اسی وقت زمین و آسمان ان کے برسرِ حق ہونے کی تصدیق کررہے ہوتے ہیں۔ کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتے ان کے حسنِ انجام کے منتظر ہوتے ہیں۔ وقتی دنیا میں ناقابلِ تذکرہ سمجھے جانے والے لوگ ابدی دنیا میں اس مقام عزت پر ہوتے ہیں کہ اللہ کے مقرب ترین فرشتے بھی ان کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔