Recitation
Next: 41_17
Arabic
فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِيٓ أَيَّامٖ نَّحِسَاتٖ لِّنُذِيقَهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَخۡزَىٰۖ وَهُمۡ لَا يُنصَرُونَ
Urdu
آخرکار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
English
So We sent upon them a screaming wind during days of misfortune to make them taste the punishment of disgrace in the worldly life; but the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped
Tafsir — Bayan ul Quran
آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔ خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔