Recitation

Next: 41_6


Arabic

وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِيٓ أَكِنَّةٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ وَفِيٓ ءَاذَانِنَا وَقۡرٞ وَمِنۢ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٞ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ


Urdu

کہتے ہیں “جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہو گئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جائیں گے


English

And they say, “Our hearts are within coverings from that to which you invite us, and in our ears is deafness, and between us and you is a partition, so work; indeed, we are working


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبر کی دعوت بے آمیز دین کی دعوت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کا حال یہ ہے کہ اکثر وہ اپنے اکابر کے دین پر ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر ان کی قومی روایات اور زمانی افکار کا غلبہ ہوتاہے۔ اس بنا پر پیغمبر کا بے آمیز دین ان کے فکری ڈھانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ وہ ان کو اجنبی دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق پیغمبر اور لوگوں کے درمیان ایک ذہنی دیوار کی طرح حائل ہوجاتا ہے۔ لوگ پیغمبر کی دعوت کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس ليے وہ اس کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔ پیغمبر کی دعوت بجائے خود انتہائی مدلّل ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے ۔ مگر مذکورہ ذہنی دیوار اتنی طاقت ور ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس سے نکل کر پیغمبر کی دعوت کو دیکھ نہیں پاتا۔ خدا انسان کےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے مگر انسان اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔


Connections

  • Previous: 41_4
  • Next: 41_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes