Recitation

Next: 42_52


Arabic

۞وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٞ


Urdu

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے


English

And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise


Tafsir — Bayan ul Quran

موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔ ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔ پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔


Connections

  • Previous: 42_50
  • Next: 42_52
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes