Recitation
Next: 43_30
Arabic
بَلۡ مَتَّعۡتُ هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ وَرَسُولٞ مُّبِينٞ
Urdu
(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا
English
However, I gave enjoyment to these [people of Makkah] and their fathers until there came to them the truth and a clear Messenger
Tafsir — Bayan ul Quran
يهاں حضرت ابراهيم عليه السلام كے جس كلمهٔ توحيد كا ذكر هے وه ان كي دعوتي زندگي كے آخري دور ميں نكلا تھا۔ يه كلمه محض چند الفاظ كا مجموعه نه تھا ۔ وه ايك عظيم تاريخ كا خلاصه تھا۔ حضرت ابراهيم جب سن شعور كو پهنچے تو انھيں يه دريافت هوئي كه انسان كا معبود صرف ايك هے۔ اس كے سوا تمام معبود باطل اور بے حقيقت هيں۔ انھوںنے اپني زندگي كي تعمير اسي عقيده پر كي۔ خاندان اور قوم كے اندر اسي كي تبليغ كي۔ وه كسي مصلحت كا لحاظ كيے بغير لمبي مدّت تك اس پر قائم رهے۔ يهاں تك كه ان كا موحد هونا هي ان كي حيثيتِ عرفي بن گيا۔ اس طرح كي ايك لمبي زندگي گزارنے كے بعد جب وه مذكوره كلمه كهه كر اپنے وطن سے روانه هوئے تو ان كا كلمه قدرتي طورپر كلمهٔ باقيه بن گيا۔ وه ايك ايسا واقعه تھا كه حضرت ابراهيم كا ذكر آتے ہی وه لوگوں كو ياد آجاتاتھا۔ حضرت ابراهيم كي اس طاقت ور روايت كوان كے بعد كي نسل ميں نشانِ راه كا كام دينا چاهئے تھا۔ مگر دنيا كي دلچسپيوں نے بعد كے لوگوں كو اس سے غافل كرديا۔ حتي كه وه اس معاملے ميں اتنے بے شعور هوگئے كه بعد كے زمانه ميں جب خدا كا ايك بنده انھيں ان كا ماضي كا سبق ياد دلانے كے ليے اٹھا تو انھوں نے اس كا انكار كرديا۔