Recitation

Next: 43_47


Arabic

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ


Urdu

ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں


English

And certainly did We send Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, and he said, “Indeed, I am the messenger of the Lord of the worlds


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر آيا كه موسيٰ كي شخصيت بظاهر ان كي اپني شخصيت سے كم هے۔ اسي طرح معجزه كے متعلق انھوں نے خيال كيا كه يه محض جادو هے، اور ايسا جادو ملك كے دوسرے جادوگر بھي دكھا سكتے هيں۔ حق كي دعوت كے سلسلے ميں هميشه يهي هوتاهے۔ لوگ داعي كي شخصيت كو ديكھ كر دعوت كو رد كرديتے هيں۔ وه نشانيوں كو عام واقعات پر قياس كركے اسے نظر انداز كرديتے هيں۔ فرعون اور اس كے ساتھيوں نے جب حضرت موسيٰ كا انكار كيا تو الله تعالي نے ان پر بهت سے تنبيهي عذاب بھيجے تاكه وه دوباره رجوع كريں۔ ان تنبيهي عذابوں كا ذكر سورهٔ اعراف (133-35) ميں موجود هے۔ يه تمام عذاب حضرت موسيٰ كي دعا پر آئے اور حضرت موسيٰ كي دعا پر ختم هوئے۔ يه ايك مزيد سبب تھا كه ان كے اندر رجوع كي كيفيت پيدا هو۔ مگر وه رجوع نه هوئے۔ حقيقت يه هے كه جو لوگ دليل سے نه مانيں وه تنبيهه سے بھي نهيں مانتے، اِلاّ يه كه آخرت كا نه لوٹنے والا عذاب انھيں آخري طورپر اپنے گھيرے ميں لے لے۔


Connections

  • Previous: 43_45
  • Next: 43_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes