Recitation
Next: 44_31
Arabic
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
Urdu
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب
English
And We certainly saved the Children of Israel from the humiliating torment
Tafsir — Bayan ul Quran
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔ علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔ اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔