Recitation
Next: 45_18
Arabic
وَءَاتَيۡنَٰهُم بَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِۖ فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Urdu
اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رو نما ہوا وہ (نا واقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ) علم آ جانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
English
And We gave them clear proofs of the matter [of religion]. And they did not differ except after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ
Tafsir — Bayan ul Quran
’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔ اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔ دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔ بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔