Recitation
Next: 46_16
Arabic
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
Urdu
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک بر تاؤ کرے اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا “اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں
English
And We have enjoined upon man, to his parents, good treatment. His mother carried him with hardship and gave birth to him with hardship, and his gestation and weaning [period] is thirty months. [He grows] until, when he reaches maturity and reaches [the age of] forty years, he says, “My Lord, enable me to be grateful for Your favor which You have bestowed upon me and upon my parents and to work righteousness of which You will approve and make righteous for me my offspring. Indeed, I have repented to You, and indeed, I am of the Muslims
Tafsir — Bayan ul Quran
انساني نسل كا طريقه يه هے كه آدمي ايك ماں اور ايك باپ كے ذريعه وجود ميں آتا هے جو اس كي پرورش كركے اس كو بڑا بناتے هيں۔ يه گويا انسان كي تربيت كا فطري نظام هے۔ يه اس ليے هے كه اس كے ذريعے سے انسان كے اندر حقوق وفرائض كا شعور پيدا هو۔اس كے اندر يه جذبه پيدا هو كه اسے اپنے محسن كا احسان ماننا هے اور اس كا حق ادا كرنا هے۔ يه جذبه بيك وقت انسان كو دوسرے انسانوں كے حقوق ادا كرنے كي تعليم ديتا هے اور اسي كے ساتھ خالق ومالك خدا كے عظيم تر حقوق كو ادا كرنے كي تعليم بھي۔ جو لوگ فطرت كے معلم سے سبق ليں۔ جو لوگ اپنے شعور كو اس طرح بيدار كريں كه وه اپنے والدين سے لے كر اپنے خدا تك هر ايك كے حقوق كو پهچانيں اور ان كو ٹھيك ٹھيك ادا كريں، وهي وه لوگ هيں جو آخرت ميں خدا كي ابدي رحمتوں كے مستحق قرار دئے جائيں گے۔