Recitation
Next: 46_26
Arabic
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءِۭ بِأَمۡرِ رَبِّهَا فَأَصۡبَحُواْ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمۡۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
Urdu
اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا” آخرکار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں
English
Destroying everything by command of its Lord. And they became so that nothing was seen [of them] except their dwellings. Thus do We recompense the criminal people
Tafsir — Bayan ul Quran
عذاب کے بادل کو عاد کے لوگ بارش کا بادل سمجھے۔ وہ اس کی حقیقت کو صرف اس وقت سمجھ سکے جب کہ عذاب کی آندھی نے ان کی بستیوں میں داخل ہو کر ان کو بالکل کھنڈر بنا دیا، انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ایک لمحہ پہلے تک بھی حق کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کرتا ہے جب کہ اعتراف کرنے کا موقع اس سے چھین ليا گیا ہو۔