Recitation
Next: 46_32
Arabic
يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُجِرۡكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
Urdu
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا
English
O our people, respond to the Messenger of Allah and believe in him; Allah will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔ اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔