Recitation
Next: 46_9
Arabic
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَلَا تَمۡلِكُونَ لِي مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِۚ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
Urdu
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، “اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے
English
Or do they say, “He has invented it?” Say, “If I have invented it, you will not possess for me [the power of protection] from Allah at all. He is most knowing of that in which you are involved. Sufficient is He as Witness between me and you, and He is the Forgiving the Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran
قديم عرب ميں قرآن كے مخاطبين قرآن كے پيغام كو يه كهه كر رد كرديتے تھے كه يه همارے اكابر كے دين كے خلاف هے۔ اور چونكه لوگوں كے اوپر اكابر كي عظمت بيٹھي هوئي تھي وه اس كو مان كر قرآن كے پيغام سے متوحش هوجاتے تھے۔ مگر قرآن كا ايك اور پهلو تھا اور وه اس كا ادبي اعجاز تھا۔ هر عربي داں محسوس كررها تھا كه يه ايك غير معمولي كلام هے۔ اس دوسرے پهلو سے قرآن كي اهميت كو گھٹانے كے ليے انھوں نے كهه ديا كه يه ’’سحر‘‘ هے۔ يعني يه جادو بياني كا كرشمه هے نه كه حقيقت بياني كا كمال۔ يه صحيح هے كه بعض انسانوں كے كلام ميں غير معمولي ادبيت هوتي هے مگر انساني كلام كي ادبيت كي ايك حد هے۔ قرآن كا ادبي اعجاز اس حد سے بهت آگے هے۔ قرآن كي ادبي عظمت اس سے زياده هے كه اس كو انساني دماغ كا كرشمه كهاجاسكے۔ جب فريق ثاني ضد پر اتر آئے تو اس وقت ايك سنجيده انسان يه كرتا هے كه وه يه كهه كر چپ هوجاتا هے كه ميرا اور تمھارا معامله الله كے حوالے هے۔ تاهم يه پسپائي نهيں بلكه ايك اقدامي تدبير هے۔ آدمي جب ايك ضدي كے سامنے چپ هوجائے تو وه اپنے آپ كو اس كے سامنے سے هٹا كر خود اس كو اس كے ضمير كے سامنے كھڑا كرديتا هے تاكه اس كے اندر احساس كا كوئي درجه هو تو وه بیدار هوجائے۔