Recitation
Next: 47_5
Arabic
فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرۡبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثۡخَنتُمُوهُمۡ فَشُدُّواْ ٱلۡوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا بَعۡدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلۡحَرۡبُ أَوۡزَارَهَاۚ ذَٰلِكَۖ وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ
Urdu
پس جب اِن کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
English
So when you meet those who disbelieve [in battle], strike [their] necks until, when you have inflicted slaughter upon them, then secure their bonds, and either [confer] favor afterwards or ransom [them] until the war lays down its burdens. That [is the command]. And if Allah had willed, He could have taken vengeance upon them [Himself], but [He ordered armed struggle] to test some of you by means of others. And those who are killed in the cause of Allah - never will He waste their deeds
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔ جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔