Recitation

Next: 48_16


Arabic

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا


Urdu

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ “تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے” یہ کہیں گے کہ “نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو” (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں


English

Those who remained behind will say when you set out toward the war booty to take it, “Let us follow you.” They wish to change the words of Allah. Say, “Never will you follow us. Thus did Allah say before.” So they will say, “Rather, you envy us.” But [in fact] they were not understanding except a little


Tafsir — Bayan ul Quran

صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔ کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔


Connections

  • Previous: 48_14
  • Next: 48_16
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes