Recitation
Next: 49_15
Arabic
۞قَالَتِ ٱلۡأَعۡرَابُ ءَامَنَّاۖ قُل لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ وَلَٰكِن قُولُوٓاْ أَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ ٱلۡإِيمَٰنُ فِي قُلُوبِكُمۡۖ وَإِن تُطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتۡكُم مِّنۡ أَعۡمَٰلِكُمۡ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
Urdu
یہ بدوی کہتے ہیں کہ “ہم ایمان لائے” اِن سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ “ہم مطیع ہو گئے” ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور رحیم ہے
English
The bedouins say, “We have believed.” Say, “You have not [yet] believed; but say [instead], ‘We have submitted,’ for faith has not yet entered your hearts. And if you obey Allah and His Messenger, He will not deprive you from your deeds of anything. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran
مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔