Recitation
Next: 5_9
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
Urdu
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے
English
O you who have believed, be persistently standing firm for Allah, witnesses in justice, and do not let the hatred of a people prevent you from being just. Be just; that is nearer to righteousness. And fear Allah; indeed, Allah is Acquainted with what you do
Tafsir — Bayan ul Quran
اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔