Recitation
Next: 5_94
Arabic
لَيۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جُنَاحٞ فِيمَا طَعِمُوٓاْ إِذَا مَا ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّأَحۡسَنُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے
English
There is not upon those who believe and do righteousness [any] blame concerning what they have eaten [in the past] if they [now] fear Allah and believe and do righteous deeds, and then fear Allah and believe, and then fear Allah and do good; and Allah loves the doers of good
Tafsir — Bayan ul Quran
شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔ شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔