Recitation

Next: 50_39


Arabic

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٖ


Urdu

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی


English

And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness


Tafsir — Bayan ul Quran

زمین و آسمان کو چھ دنوں، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدریجی عمل کا طریقہ ہے۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدریج کے ساتھ لمبی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو بھی چاہيے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صابرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ دعوت کا عمل شروع سے آخرتک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح و شام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھو کر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوسکے۔ ’’ہم کو تکان نہیں ہوتی‘‘ایک ضمنی فقرہ ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا(خروج 20:11 )۔ یہ فقرہ اسی کی تصحیح و تردید ہے۔ آرام وہ کرتا ہے جو تھکے۔ خدا کو تکان نہیں ہوتی اس لیے اس کو آرام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔


Connections

  • Previous: 50_37
  • Next: 50_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes