Recitation
Next: 50_5
Arabic
قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ
Urdu
زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے
English
We know what the earth diminishes of them, and with Us is a retaining record
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ “اپنے سے برتر شخص” دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔ جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔