Recitation

Next: 51_15


Arabic

ذُوقُواْ فِتۡنَتَكُمۡ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ


Urdu

(اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے


English

[And will be told], “Taste your torment. This is that for which you were impatient


Tafsir — Bayan ul Quran

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 51_13
  • Next: 51_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes