Recitation
Next: 51_22
Arabic
وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ
Urdu
اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟
English
And in yourselves. Then will you not see
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔