Recitation
Next: 55_30
Arabic
يَسۡـَٔلُهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ
Urdu
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے
English
Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is bringing about a matter
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز فنا پذیر ہے۔ اشیاء کا فنا پذیری کے باوجود موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا خالق اور منتظم غیر فانی ہے۔ اگر وہ غیر فانی نہ ہوتا تو اشیاء کا وجود ہی نہ ہوتا ۔یا اگر ہوتا تو اب تک ان کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ دنیا کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کی کسی چیز کے اندر تخلیق کی طاقت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیاء اپنی بقا کے لیے جن چیزوں کی محتاج ہیں وہ ان کی اپنی پیدا کردہ نہیں ہیں۔یہ واقعہ دوبارہ خالق کی بے پایاں قدرت کو بتاتا ہے۔ یہ حقیقتیں اتنی واضح ہیں کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لیے ان کا انکار ممکن نہیں۔ خدا کی نشانیاں اس دنیا میں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک سنجیدہ انسان کے لیے ان کو نظر انداز کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ نشانیوں کے ہجوم میں بھی ان نشانیوں کا انکار کرتا ہے۔